Uncategorized

وزن کم کرنے کی نئی دوائیں

تحریر: ڈاکٹر زعیم الحق

نظر ثانی: ڈاکٹر  عندلیب ارشد

ہالی وڈ کے ایکٹرز سے لے کر کسی بھی ملک کے سیاستدانوں تک، سمارٹ دکھائی دینے کےلئے وزن  کم کرنے کی نئی دوا ئیں اور ان کا استعمال ، آجکل میڈیا اور عام گپ شپ کا ایک  دل پسند موضوع ہے۔  لیکن  فلم سٹارز یا سیاستدان  صحت کے شعبہ سے تعلق نہیں رکھتے  اسلئے ان کے تجربات  کو ایک حد تک ہی قابل غور سمجھا جا سکتا ہے۔ ہاں اگرایک  ڈاکٹر نے اپنے معالج کے مشورہ کے مطابق اس دوا کو سمجھا اور اسے اپنے لئے استعمال کیا ہو تو اس کی معلومات یقیناً زیادہ معتبر ہو سکتی ہیں۔

اردو ہیلتھ کےلئے ہم نے ایک ایسے ہی  ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کی جو خود اپنے لئے وزن کم کرنے کی نئی دواوؤں میں سے ایک استعمال کر رہے ہیں ۔  پرائیویسی  کی خاطر ہم ان کا نام نہیں شامل کر رہے اور یہ گفتگو سوال جواب کی صورت میں اپنے قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔

سوال:  ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے آپ وزن کم کرنے کی دوا کو اپنے لئے استعمال کرتے ہوئے بہت ساری باتیں جانتے ہوں گے۔یہ دوائیں کیا ہیں، کیسے استعمال کی جاتی ہیں، اور ان کے مطلوبہ  اثرات اور  سائیڈ ایفیکٹس  ، دونوں پر کیسے نظر رکھی جائے، اس بارے میں  کچھ بتائیں؟

جواب:  میں  نے  یہ دوا اس بارے میں بہت سی  تحقیق کو پڑھنے ، ماہرین جو اس کو ایک معجزاتی دوا کے طور پر بیان کر رہے تھے ، ان سے بات کرنے اور اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کے بعد شروع کی۔ جب میں نے اس بارے میں سوچنا شروع کیا تو  دو دوائیں semaglutide اور tirzepatide  تھیں،  جو مارکیٹ میں  Ozempic اور Mounjaro کے  برانڈ ناموں  سے موجود تھیں۔ اب  مارکیٹ میں نئی دوائیں بھی نمودار ہو رہی ہیں،  جو انجکشن کے علاوہ گولیوں کی صورت میں بھی دستیاب ہیں۔ یہ بیان کرنا  ضروری ہے کہ  یہ دوائیں بنیادی طور پر ذیابیطس کے علاج کےلئے بنائی گئی تھیں۔ یہ بات کہ ان سے  وزن  بھی کم ہوتا ہے، یہ ایک ثانوی اثر کے طور پر سامنے آئی۔ بہت سے  ڈیٹا  سے یہ بات بار بار ثابت ہونے کے بعد ان دواؤں کو وزن کم کرنے کی دوا  کا سرٹیفیکیٹ بھی مل گیا۔  آج یہ ادویات موٹاپے کے علاج میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔یہ جاننا بھی اہم ہے کہ  ابھی یہ دوائیں  صرف موٹاپے  (Obesity)کے علاج کےلئے  منظور کی گئی ہیں، وزن کو کم کرنے کےلئے نہیں۔اس کے علاوہ یہ کہ موثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ مسائل بھی ہیں، جن کے بارے میں معلومات ہونا ضروری ہے۔

سوال: یہ دوائیں  بنیادی طو ر پر کیسے کام کرتی ہیں؟

جواب:  ا ن دواؤں  کا طریق کار سمجھنے کےلئے پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ انسانی جسم میں بھوک کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ عام طور پر ہم کھانا کھاتے ہوئے  ہاتھ روک دینے کا فیصلہ تب کرتے ہیں جب ہمیں پیٹ بھرنے یا بھوک ختم ہونے کا  احساس ہوتا ہے۔ جسم کے اندر موجود خلیوں کی سطح پر یہ احساس کچھ ہارمونز کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔یہ ہارمون  گلوکاگون نما پیپٹائڈ 1((GLP-1 یا گلوکوز  سے منسلک ایک اور ہارمون انسولینوٹروپک پولی پیپٹائڈ (GIP) کے نام سے جانا جاتا ہے۔کھانا کھانے کے دوران سیر ہوجانے کا احساس ، خون میں انہی ہارمونز کی مقدار بڑھنے سے  پیدا ہوتا ہے اور یوں  ہم کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ وزن کم کرنے کی یہ ادویات انہی ہارمونز کی   نقل کرکے ہمارے جسم کو یہ بتاتی ہیں کہ  پیٹ بھر گیا ہے۔ یوں کھانے کی مقدار اور ہمارا وزن  بتدریج کم ہوتے جاتے ہیں۔ سیر ہونے کا احساس  جو یہ دوا پیدا کرتی ہے، کسی معجزہ سے کم نہیں۔ پیٹ بھرنے کا احساس ایسا ہوتا ہے کہ مزید کھانے کے بارے میں  سوچنے سے  بھی متلی سی ہونے لگتی ہے، اور دو کھانوں کے درمیان کوئی سنیک  (Snack) لینے کا تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔

سوال:  وزن میں کمی کتنی دیر میں شروع ہو جاتی ہے؟ آپکا اپنا تجربہ کیسا رہا؟

جواب:  وزن کم ہونےکامعاملہ مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔   عام طور پر دوا شروع کرنے کے پہلے  ہفتوں میں وزن کم ہونا شروع  ہو جاتا  لیکن اس کی رفتار سست ہوتی ہے۔ اسلئے کہ  ابتدائی ہفتوں میں جسم  دوا ور خوراک کے ساتھ تھوڑا ایڈجسٹ کرتا  ہے۔ اس کے بعد نصف سے ایک کلوگرام تک  فی ہفتہ کمی شروع ہو جاتی ہے۔ تین ماہ   مسلسل استعمال کے بعد  وزن میں تقریباً پانچ  سے سات فیصد کمی  (70 کلوگرام والے شخص کا وزن  65 کلوگرام)  اور ایک سال مکمل ہونے پر پندرہ فیصد تک  کمی (70کلوگرام والے شخص کا وزن  60 کلوگرام )واقع ہوتی ہے۔ میرے معاملے میں یہ کمی بتائی گئی شرح سے کچھ زیادہ ہی رہی کیونکہ میں نے یہ دوا  ماہ رمضان   میں شروع کی۔ یہ بھی اہم ہے کہ تقریباً 10-15% لوگوں  کا اندرونی نطام ایسا ہوتا ہے کہ ان میں اس دواکا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا ۔

سوال:  کیا صرف دوا کا استعمال کافی ہے یا طرز زندگی میں اور تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں؟

جواب:  یہ پہلو بہت ہی اہم ہے کہ ہم ان  دواؤں  کو ایک جادو کے طور پر استعمال نہ کریں، بلکہ  انہیں ایک پیکج کے طور پر دیکھیں جس میں دوا کے علاوہ  مناسب خوراک  اور طرز زندگی شامل ہیں۔ مثلاً  یہ دوائیں استعمال کرنے والے اگر اپنی خوراک پر توجہ نہ رکھیں تو وہ غذائیت کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ سو یہ دوائیں استعمال کرنے والوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ  کافی  مقدار میں پروٹین، بالخصوص کولاجن (Collagen)  استعمال کر رہے ہیں۔ کولاجن وہ پروٹین ہے جو ہماری جلد،  ہڈیوں  اور جوڑوں کے ارد گرد   موجود بافتوں کی ساخت اور طاقت برقرار رکھتی ہے۔ یہ نہ ہونے سے جلد  لٹک جاتی، ہڈیاں کمزور ہو جاتی اور جوڑ اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔ ا س کے علاوہ وہ تمام وٹامنز اور معدنیات بھی ، جن کی دوا استعمال کرنے والے کو   اپنی عمر کے حساب سے ضرورت ہے۔ ایسا نہ کرنے سے  جسم لاغر اور بیمار ہو سکتا ہے۔ نقاہت پیدا ہوتی اور پٹھوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔یعنی صحت کی ایک تشویش  (موٹاپا) دوسری (شدید کمزوری)  میں  تبدیل  ہو سکتی ہے جو قطعاً فائدہ مند نہیں۔

سوال:کیا ہر کوئی ان دواؤں کا استعمال کر سکتا ہے؟

جواب:  GLP-1 والی دوائیں  ہر کسی کے لیے نہیں ۔ انفرادی صحت کی تفصیل اور ٹیسٹوں کے نتائج  کو مدنظر رکھتے ہوئے  یہ دوائیں  صرف ایک طبی پریکٹیشنر کے ذریعہ حاصل کی جانی چاہئیں۔ عالمی ادارہ صحت  کی موجودہ سفارشات کی بنیاد پر، GLP-1 ادویات کو موٹاپے  کا شکار  بالغ حضرات و خواتین جن کا  BMI   30یا اس سے زیادہ ہو( BMIایک فارمولہ ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی شخص  کا وزن اسکے قد  کے مطابق ہے یا نہیں ) کے علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ ابھی حاملہ خواتین میں ان دواؤں سے   علاج  ہدایات میں شامل نہیں کیونکہ اس بارے میں کوئی تحقیق  اور معلومات موجود نہیں ہے۔ وہ لوگ جن میں تھائیرائیڈ کی بیماری پہلے سے موجود ہو یا وہ لبلبہ کی کسی تکلیف کا شکار ہوں ، ان میں بھی یہ دوا منع ہے ۔

سوال: ایک شخص کو کتنی دیر تک ان دواؤں کا استعمال جاری رکھنا چاہیئے؟

جواب:  وزن کم کرنے کی یہ نئی دوائیں عام طور پر طویل مدتی علاج استعمال کے لئے ہیں۔ یعنی 6 ماہ یا اس سے زیادہ۔ دوا کے استعمال کے ساتھ غذا میں تبدیلی اور ورزش کر نےکی عادت وزن کو مستقل ایک مقام پر رکھنے میں مددگار ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ  وقت گزرنے اور بہت سے لوگوں میں ان دواؤں کے استعمال کا ڈیٹا اکٹھا  ہونے سے ماہرین اس فیصلہ پر پہنچ سکیں گے کہ کتنی ورزش اور مناسب غذا کا کتنی مقدار میں  دوا کے ساتھ امتزاج ایک  مستقل علاج کے طور پر تجویز کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او  بھی اس بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل  میں بہتر اور عملی رہنمائی فراہم کر سکے۔

سوال: اگر استعمال کرتے کرتے دوا روک دیں تو کیا ہوگا؟

جواب:   سادہ جواب تو یہ ہے کہ وزن دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہوتا  ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی کا استعمال کرتے ہوئے وزن کم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ  ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ لوگ جو یہ دوا یکدم  روک دیں  توان کے  وزن میں   دوا اور باقی اقدامات جاری رکھنے والوں کے مقابلہ زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ دوا یکدم بند کرنے سے  دیگر صحت کے خدشات، جیسے ہائی بلڈ پریشر، بھی واپس آ جاتے ہیں۔

سوال:  یہ دوائیں استعمال کرنا پھر کوئی فوری اور مستقل حل تو نہ ہوا؟

جواب: یقیناً یہ کوئی  جادو نہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن  کے مطابق   صرف دوائیاں ہی موٹاپے کے مسئلے کو ختم نہیں کریں  گی۔ موٹاپے کو عمر کی ابتدا میں ہی روکنا ،   اس کے لئے وقتاً فوقتاً وزن چیک کرنا (اسکریننگ )اور صحت مند عادتیں عام کرنے کا  ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔  ماہرین کے مطابق موٹاپا ایک دائمی، یا  دوبارہ  آجانے والی حالت ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے صرف ایک دوا سے ختم  نہیں کیا جا سکتا۔ غذائی تبدیلیاں  اور ساتھ ہی جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنا اور انہیں مستقل رکھنا ضروری ہے۔

سوال:  جب آپ صحتمند عادتیں کہتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب:  اس  کا مطلب ہے طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا۔ یہ تبدیلیاں چھوٹی چھوٹی بھی ہو سکتی ہیں مثلاً  اپنی زندگی کو  صبح شام کے ردھم کے ساتھ جوڑنا، یعنی اپنے کاموں کو  سورج چڑھنے اور دن ڈھلنے کے ساتھ ترتیب دینا، صبح جلدی اٹھنا اور رات ہوتے ہی سو جانا، دوپہر کے کھانے کے بعد چائے یا کافی نہ پینا، دباؤ کے وقت گہرےسانس لینا یا پانچ  سات منٹ کے لیے ٹہل لینا، جب کچھ پینے کی خواہش ہو تو صرف پانی پینا اور میٹھے مشروبات  نہ لینا، وغیرہ ۔ بڑی تبدیلیوں میں دوا کا مسلسل استعمال، غذا میں پروٹین (گوشت، انڈہ، دودھ، دالیں وغیرہ)بڑھانا، نشاستہ دار غذائیں (روٹی، چاول) کم کرنا اور جسمانی ورزش لازمی کرنا شامل ہیں۔

سوال: کچھ ان دواؤں کے  ضمنی اثرات کے بارے میں بتائیں۔ آپکا اپنا تجربہ کیسا رہا؟

جواب:  یقیناً ان  دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں۔ ان میں معدے کے مسائل ،  لبلبے کی سوزش اور پتھری   شامل ہیں۔ پٹھوں کا نقصان ایک اور  مسئلہ ہے  جو  ان افراد میں خاص طور پر دیکھنے میں آتا ہے  جو ورزش نہیں کر رہے ہیں ۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی  کہنا ہے کہ موٹے لوگوں میں صحت کے جو  کافی شدید مسائل نظر آتے ہیں، جیسے کہ دل کی بیماری، کینسر اور فالج  وغیرہ،   انکے مقابلے میں دوا کے  ضمنی اثرات  معمولی نظر آتے ہیں۔ مجھے بھی ابتدا میں کمزوری اور دل متلانے جیسے سائیڈ ایفیکٹ کا سامنا رہا لیکن یہ خوراک میں  پروٹین اور کولاجن   بڑھانے اور ورزش کرنے سے بہتر ہو گئے۔

References

      1. https://www.bbc.com/future/article/20260401-why-weight-loss-drugs-arent-a-quick-fix

      1. https://www.who.int/news-room/questions-and-answers/item/obesity-glp-1-therapies