اینٹی مائکروبئیل دوائیں کونسی ہیں؟
اینٹی مائیکروبیئلز میں بیکٹیریا کے خلاف دوائیں یعنی اینٹی بائیوٹکس، وائرس کے علاج کے لئے دوائیں یعنی اینٹی وائرلز، بیماری پیدا کرنے والے فنگس یا پھپھوندی کی دوائیں یعنی اینٹی فنگلز، اور طفیلی کیڑوں کو مارنے کی دوائیں یعنی اینٹی پیراسائٹ دوائیں شامل ہیں۔ یہ دوائیں انسانوں، جانوروں اور پودوں میں متعدی بیماریوں کو روکنے اور ان کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور جان بچانے والی دوائیں کہی جا سکتی ہیں۔
ان دواوں کے خلاف جرثوموں میں مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پیراسائیٹ پر ان کی دوائیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ یوں اینٹی بائیوٹکس اور دیگر جراثیم کش ادویات بے اثر ہو جاتی ہیں اور انفیکشن کا علاج مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بیماری کے پھیلاؤ، شدید بیماری، معذوری اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس مزاحمت کی صلاحیت جراثیم میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے لیکن اس کا ظہور اور پھیلاؤ انسانی سرگرمیوں سے تیز ہوتا ہے۔
جراثیم کش ادویات جدید طب کی بنیاد ہیں۔ ان ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے جرثوموں کا ظہور اور پھیلاؤ عام انفیکشن کے علاج اور زندگی بچانے کے طریقہ کار کو انجام دینے کی ہماری صلاحیت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ان دواوں کے خلاف مزاحم انفیکشن جانوروں اور پودوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں، کھیتوں میں پیداواری صلاحیت کو کم کرتے ہیں، اور خوراک کی حفاظت کو خطرہ بناتے ہیں۔
اینٹی مائکروبیئل مزاحمت کیوں بڑھ رہی ہے؟
یہ کہنا مناسب ہو گا کہ جراثیم میں اس ان چاہی خاصیت کے پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ خود انسان ہی ہیں۔ جب اینٹی بایوٹک ادویات کو بلاضرورت، غلط طریقے سے، اور کثرت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں دوا کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ مزاحمت صرف انسانوں میں ہی نہیں، جانوروں اور پودوں کی بیماریوں کےلئے استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹک دواوں کے خلاف بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
بلاضرورت اینٹی بایوٹک کی مثال عام گلا خراب یا زکام میں اینٹی بایوٹک کا استعمال ہے جو بہت زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ غلط طریقے کا مطلب ہے قبل از وقت دوا بند کر دینا یا اینٹی بایوٹک ٹیکے پر بلا ضرورت انحصار کرنا، جبکہ کثرت سے استعمال کی مثال میں عمومی کیفیات جو خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں، ان میں بھی ان ادویات کا سہارا لینا یا ایک دوا کا اثر ظاہر ہونے کا انتظار کئے بغیر ایک اور اینٹی بایوٹک کا اضافہ کر لینا، شامل ہیں۔
اینٹی بایوٹک ادوات کے خلاف مزاحمت جدید ادویات کے بہت سے فائدوں کو ضائع کر سکتی اور اکثر اوقات خطرے میں ڈال دیتی ہے۔مثال کے طور پر یہ انفیکشنز کا علاج مشکل بناتی ہے اور دوسرے طبی طریقہ کار اور علاج جیسے سرجری، سیزرین سیکشن اور کینسر کے دوائوں سے علاج (کیموتھراپی )کو خطرناک بناتی ہے۔اس کے علاوہ ان کا بے جا استعمال ضرورت پڑنے پر ان کی فراہمی میں تعطل پیدا کرتا اور ضروری استعمال کو مشکل بناتا ہے۔
ایک عالمی تشویش:
اینٹی بایوٹک سے بڑھتی ہوئی مزاحمت، اور بہت سی دواوں کے بے اثر ہوجانے کے پیش نظر نئی ادویات بنانے کی ضرورت ہے لیکن اس بارے میں تحقیق اور نئی دوائیں بنانے کی رفتار ناکافی ہے، یوں پہلے سے موجود دواوں کے بارے میں جس قدر احتیاط کی جائے، کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی تحقیق اور اس سے بننے والی ادویات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات (جیسے مناسب قیمتیں) کی بھی فوری ضرورت ہے۔
جراثیم میں اینٹی بایوٹک ادویات سے مزاحمت نہ صرف بیماریوں کے علاج میں دقت اور اموات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انفرادی، ملکی اور عالمی سطح پر علاج معالجہ کے اخراجات بھی بے تحاشا بڑھتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس بڑھتے ہوئے مسئلہ کی وجہ سے سن 2030 اور 2050 کے درمیانی بیس برسوں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے 1 ٹریلین امریکی ڈالر سے لے کر 3.4 ٹریلین امریکی ڈالر تک کا سالانہ نقصان ہو سکتا ہے (2)۔
چند مثالیں:
پیشاب کی نالی کی انفیکشن (یو ٹی آئی) میں جو دوائیں پہلے موثر ہوتی تھیں، اب اپنا اثر کھو رہی ہیں۔ مثلاً ای ۔کولائی جراثیم جس کا علاج تھرڈ جنریشن دوا (سفیلو سپورن) سے ممکن ہوتا تھا، اب بیالیس فیصد کیسز میں مزاحمت کی وجہ سے ممکن نہیں رہا۔اسی نظام کی انفیکشن کرنے والا ایک اور جراثیم (Staphylococcus aureus) اب پینتیس فیصد کیسز میں میتھیسلین سے مزاحم ہے، جبکہ پہلے یہ دوا اس جراثیم کو قابو میں کر لیتی تھی۔ (Klebsiella pneumonia) جو پھیپھڑوں میں شدید بیماری کا باعث بنتا ہے ، اب کارباپینیم جیسی انتہائی درجے کی دوائیوں کے استعمال میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اس استعمال سے ایسے انفیکشن کے خطرات بڑھ رہےہیں جن کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔
تپ دق (ٹی بی) اینٹی مائکروبئیل مزاحمت میں ایک اہم بیماری ہے۔ ملٹی ڈرگ مزاحم تپ دق (MDR-TB) ٹی بی کی ایک شکل ہے جو ان بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے جو سب سے زیادہ مؤثر دو دواوں (isoniazid اور rifampicin) کے اثر میں نہیں آتے۔( MDR-TB) دوسرے درجے کی دوائیوں کے استعمال سے قابل علاج ہے، لیکن یہ دوائیں مہنگی اور زہریلی ہیں۔ لہذا (MDR-TB )صحت عامہ کا بحران ہے اور صحت کی سلامتی کے لیے عالمی خطرہ ہے۔
دواوں کے خلاف مزاحم فنگل انفیکشن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فنگل انفیکشنز کا علاج کرنا بیکٹیریا سے بھی مشکل ہو تا ہے۔ ایک تو یہ دوائیں پہلے ہی کم تعداد میں ہیں، دوسرے فنگس کی انفیکشن عموماً دوسری بیماریوں (جیسے ایچ آئی وی) کے ہمراہ دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ دواوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے پیرا سائٹس کا ظہور ملیریا کے کنٹرول کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ آرٹیمیسینن پر مبنی مجموعہ علاج (ACTs) ملیریا کے غیر پیچیدہ جراثیم کے لیے اولین ہتھیار ہیں اور ملیریا کے زیادہ تر مریضوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ (ACTs) میں آرٹیمیسینین اور/یا دیگر دوائیوں کے خلاف جزوی مزاحمت کا ابھرنا اب صحیح علاج کا انتخاب مشکل بنا رہا ہے۔