اینٹی بائیوٹکس:

اینٹی بایوٹکس کیا ہیں؟ اینٹی بائیوٹکس ایسی دوائیں ہیں جو انسانوں اور جانوروں میں بیکٹیریا سے ہونےوالی انفیکشن کے خلاف لڑتی ہیں۔ بیکٹیریا ، وائرس سے کچھ بڑے سائز کے جراثیم ہوتے ہیں اور ان سے ہونے والی انفیکشنز میں عام بیماریاں جیسے کہ ٹائیفائیڈ، ٹی بی، نمونیا وغیرہ شامل ہیں۔اینٹی بایوٹکس ان بیکٹیریا کو یا تو مار دیتی ہیں ، یا ان کی افزائش کو مشکل بنا کر بیماری کو روک دیتی ہیں۔

اینٹی بائیوٹکس مختلف طریقوں سے لی جا سکتی ہیں:

منہ کے ذریعہ سے: ۔ گولیوں، کیپسول یا مائعات (شربت) کی صورت میں یہ دوائیں منہ کے ذریعہ سے لی جاتی ہیں۔ جلد پر لگا کر: ۔ یہ کریم، سپرے یا مرہم کی صورت میں ہو سکتی ہیں جسے آپ اپنی جلد پر لگاتے ہیں۔ آنکھوں کا مرہم، آنکھوں کے قطرے، یا کان کے قطرے ، اس ذریعہ کی چند مثالیں ہیں۔ پٹھے میں انجکشن کے ذریعے یا نس ((IV کے ذریعے انجکشن کی صورت میں:۔اس ذریعہ کی ضرورت عموماً تب پڑتی ہے جب بیماری شدید ہو۔

اینٹی بائیوٹکس کن بیماریوں کا علاج کرتی ہیں؟

اینٹی بائیوٹکس صرف بعض بیکٹیریل انفیکشنز کا علاج کرتی ہیں، جیسے گلے میں سٹریپٹو کوکس بیکٹیریا سے ہونےوالی انفیکشن جس میں سوجن اور شدید درد کے باعث پانی پینا بھی مشکل ہو جاتا ہے، ، پیشاب کی نالی کی انفیکشن (یو ٹی آئی)، گردن توڑ بخار، اور ٹا ئیفائیڈ وغیرہ ۔ کچھ بیکٹیریل انفیکشنز کے لیے آپ کو اینٹی بائیوٹکس لینے کی ضرورت نہیں ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ عمومی گلا خراب ، سائنوسائٹس یا کان کی معمولی انفیکشن کے لیے ان کی ضرورت نہ ہو۔ اینٹی بایوٹک کی ضرورت نہ ہونے پر لینا آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ الٹا، ان کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو آپ کا صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والا آپ کے لیے بہترین علاج کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ازخود اپنے معالج سے اینٹی بائیوٹک تجویز کرنے کے لیے نہ کہیں۔

کیا اینٹی بائیوٹکس وائرل انفیکشن کا علاج کرتے ہیں؟

اینٹی بائیوٹکس وائرس سے ہونے والی انفیکشن پر کام نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، نزلہ اور ناک بہنا، چاہے بلغم گاڑھا، پیلا یا سبز ہو، زیادہ تر گلے کی سوزش (سوائے اسٹریپٹو کوکس انفیکشن)، اور برونکائٹس وغیرہ۔

اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات کیا ہیں؟

اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات معمولی سے لے کر بہت شدید تک ہوتے ہیں۔ عام ضمنی اثرات میں جلد پر خارش یا سرخی (ریش) ہو جانا، متلی کی کیفیت، اسہال ، فنگس سے ہو جانے والی انفیکشن شامل ہیں۔ مزید سنگین ضمنی اثرات میں آنتوں کے ایک خاص قسم کے بیکٹیریا (کلاسٹریڈئیم) کی انفیکشن، جو اسہال کا سبب بنتے ، بڑی آنت کو شدید نقصان پہنچا سکتے اور بعض اوقات موت کا باعث بھی ہو سکتے ہیں، شدید اور جان لیوا الرجی ہوجانا، اور بے جا یا مسلسل استعمال سے بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت پیدا ہوجانا جو انفیکشن کو لاعلاج بنا دے، ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اینٹی بائیوٹک لینے کے دوران کوئی مضر اثرات پیدا ہوتے ہیں تو اپنے معالج یا ہسپتال سے فوراً رابطہ کریں۔

اینٹی بایوٹک صرف ضرورت کے وقت ہی کیوں لیں؟

آپ کو اینٹی بائیوٹک صرف اس وقت لینا چاہئے جب ان کی ضرورت ہو کیونکہ ان کےضمنی اثرات کا فی ہوتے ہیں اور بلا ضرورت یا طویل مدتی استعمال جراثیم میں اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹک مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب بیکٹیریا مسلسل اینٹی بایوٹک کی موجودگی کے باوجود انسانی جسم میں زندہ رہنے اور اینٹی بائیوٹک کے اثرات کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی افزائش جاری رہتی ہے۔

میں اینٹی بائیوٹکس کو صحیح طریقے سے کیسے استعمال کروں؟

جب آپ اینٹی بائیوٹکس لیتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ انہیں ذمہ داری سے استعمال کریں۔ اپنے معالج کی ہدایات پر ہمیشہ احتیاط سے عمل کریں۔ اگر آپ اینٹی بایوٹک شروع کر نے کے بعد بہتر محسوس کر نے لگے ہیں تو بھی اپنی دوا کا کورس مکمل ختم کریں۔ اگر آپ انہیں بہت جلد لینا بند کر دیتے ہیں، تو کچھ بیکٹیریا زندہ رہ سکتے ہیں اور آپ کو دوبارہ متاثر کر سکتے ہیں۔اپنی اینٹی بائیوٹکس کو بعد کے لیے محفوظ نہ کریں۔ انہیں دوسروں کے ساتھ شیئر بھی نہ کریں۔ کسی اور کے لیے تجویز کردہ اینٹی بائیوٹکس نہ لیں۔ یہ آپ کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچا سکتی، صحیح علاج میں تاخیر کا باعث بن سکتی، آپ کو مزید بیمار بنا سکتی ، یا ضمنی اثرات کا سبب بن سکتی ہیں۔