ہیضہ:

ہیضہ جراثیم سے ہونےوالی ایک انفیکشن ہے جس کا مریض شدید اسہال میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ہیضہ آلودہ کھانا کھانے یا آلودہ پانی پینے سے ہوتا ہے ۔ ہیضہ کرنے والا جرثومہ Vibrio cholerae کہلاتا ہے۔جو دنیا کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوکرنہ صرف مقامی طور پر بیماری پھیلاتا، بلکہ عالمی صحت عامہ کے لیے بھی خطرہ بنتا ہے۔ غربت یا ناگہانی صورت حال (جیسے سیلاب یا زلزلہ زدگان، یا جنگ کی وجہ سے ہجرت کرنے والے) کا شکار لوگوں میں پھیلنے کی وجہ سے ہیضہ دنیا میں عدم مساوات اور سماجی ترقی کی کمی کا ایک اشارہ بھی ہے۔

علامات:

ہیضہ کی بیماری شدید پانی والے اسہال کا سبب بنتی ہے، جس کے نتیجہ میں مریض پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا شکار ہو سکتا ہے۔ہیضہ کے جراثیم آلودہ کھانا کھانے یا آلودہ پانی پینے سے انسان کے جسم میں پہنچتے ہیں۔ بیماری کی علامات 12 گھنٹے میں ظاہر ہو جاتی ہیں، اگر چہ بعض اوقات اس میں 5 دن بھی لگ جاتے ہیں۔ ہیضہ بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کرتا ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو گھنٹوں کے اندر اس کا مریض ہلاک ہو سکتا ہے۔ ہیضہ کے جراثیم کے ہمارے ماحول میں موجود رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ جن کے جسم میں یہ جراثیم جائے، ان میں ہیضہ کی بیماری نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں میں ہیضہ کے جراثیم بیماری تو نہیں کرتے لیکن ایک سے دس دن تک ان کے پاخانے میں موجود رہتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ واپس ماحول میں جا کر دوسرے لوگوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ہیضہ کی تاریخ:

19ویں صدی کی ابتدا میں ہیضہ ہندوستان میں گنگا کے ڈیلٹا، جہاں اس کے اولین ذخائر کا پتہ چلتا ہے، سے دنیا کے کئی ممالک میں پھیل گیا اور لاکھوں کی تعداد میں اموات کا باعث بنا۔ اس کے بعد ہونے والی چھ وبائی امراض نے تمام براعظموں میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا۔ موجودہ (ساتویں) وباجنوبی ایشیا میں 1961 میں شروع ہوئی، 1971 میں افریقہ اور 1991 میں امریکہ تک پہنچی۔ ہیضہ اب بہت سے ممالک میں مقامی طور پر مسلسل موجود ہے۔

 ہیضہ مقامی یا وبائی مرض ہو سکتا ہے۔ مقامی کا مطلب ہے کہ ایک علاقے میں تو مرض کی ایک سے دوسرے کو منتقلی ہو رہی ہو لیکن ہیضہ کے مریض کسی اور علاقے سے درآمد نہ ہوئے ہوں۔ ہیضے کی وبا/ وبا دونوں مقامی ممالک اور ان ممالک میں ہو سکتی ہے جہاں ہیضہ باقاعدگی سے نہیں ہوتا ہے۔

 ہیضہ کی منتقلی کا صاف پانی اور صفائی کی سہولیات تک ناکافی رسائی سے گہرا تعلق ہے۔ عام خطرے والے علاقوں میں شہری کچی بستیاں، اور اندرونی طور پر بے گھر افراد یا پناہ گزینوں کے کیمپ شامل ہیں، جہاں صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی کم از کم ضروریات پوری نہیں کی جاتی ہیں۔

 بحرانی صورت حال جیسے جنگ یا آفت زدہ علاقوں جہاں پانی اور صفائی کے نظام میں خلل آجائے، یا ناکافی اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں آبادی کی نقل مکانی ہو رہی ہو، ہیضے کی منتقلی کو بڑھا سکتے ہیں۔

 ہیضے پر قابو پانے اور اموات کو کم کرنے کے لیے بنیادی حفظان صحت کے اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ماحول کی نگرانی، پانی، صفائی اور حفظان صحت کی احتیاط، بیماری کی صورت میں علاج، اور ہنگامی صورت کا شکار لوگوں میں ہیضے کی ویکسین بیماری پر قابو پانے اور اسے وبا کی صورت اختیار کرنے سے بچانے کےلئے اہم ہیں۔

روک تھام اور کنٹرول:

ہیضے کے کیسز کا پتہ ان مریضوں میں طبی شک کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے جن میں شدید پانی والے اسہال دیکھے جارہے ہوں۔ اس کے بعد متاثرہ مریضوں کے پاخانے میں ہیضہ کے جراثیم کی شناخت کرکے شک کی تصدیق کی جاتی ہے۔آج کے دور میں کم وقتی تشخیصی ٹیسٹ (RDTs) میسر ہیں جن سے بیماری کا فوراً پتہ چل جاتا ہے۔ آبادی میں ہیضہ کی موجودگی کا پتہ لگانے (تشخیص) اور نگرانی (ڈیٹا جمع کرنے، مرتب کرنے اور تجزیہ کرنے) کی مقامی صلاحیت، بیماری کے کنٹرول میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

پینے کے پانی اورماحول کی صفائی کا خیال:

ہیضہ کی بیماری پر مستقلاً قابو ہانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام دنیا میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی اور معاشی ترقی کے مواقع مہیا ہوں۔خصوصاً وہ علاقے جہاں ہیضہ کی وبا بار بار پھوٹ پڑتی ہے وہاں صاف ہانی، بنیادی صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اچھے طریقوں کے استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ایسے طویل مدتی اقدامات ہیضہ کے علاوہ، پانی سے ہونے والی دیگر کئی بیماریوں کو بھی روکتی ہیں، نیز غربت، غذائی قلت اور تعلیم سے متعلق عالمی اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔

علاج اور بچاو:

ہیضہ ایک قابل علاج مرض ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا نمکول یا اورل ری ہائیڈریشن سلوشن (ORS) کے فوری استعمال کے ذریعے کامیابی سے علاج کیا جا سکتا ہے۔ نمکول کے ایک پیکٹ کو 1 لیٹر (L) صاف پانی میں حل کیا جاتا ہے۔ بالغ مریض جن میں ڈی ہائیڈریشن شدید نہ ہو، ان کو پہلے دن علاج کے لیے 6 لیٹر تک نمکول کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

شدید پانی کی کمی والے مریضوں کے بے ہوش ہونے (شاک میں جانے) کا خطرہ ہوتا ہے۔ایسے مریضوں کو خون کی نالی (وین) میں سوئی کے ذریعے ڈرپ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مریضوں میں اسہال کے دورانیے کو کم کرنے، وقت کے ساتھ ڈرپ کی مقدار کو کم کر کے بالکل ختم کرنے، اور ان کے پاخانے میں ہیضہ کے جراثیم کے اخراج کی مقدار اور مدت کو کم کرنے کے لیے مناسب اینٹی بایوٹک بھی دی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ہر مریض میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور بلا ضرورت اس کا استعمال جراثیم میں ان دواوں کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے۔

زنک 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ایک اہم ضمنی علاج ہے، جو اسہال کی مدت کو بھی کم کرتا ہے اور مستقبل میں شدید پانی والے اسہال کی دیگر وجوہات کی اقساط کو روک سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جن بچوں کی خوراک ابھی دودھ ہو انہیں دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔ بچاو کے لئے فی الحال WHO کی تین پری کوالیفائیڈ ویکسین (OCV): Dukoral®، Shanchol™، اور Euvichol-Plus® دستیاب ہیں۔ہیضہ سے تحفظ کی یہ تینوں اقسام انجکشن کی صورت میں نہیں، بلکہ منہ سے پلائی جاتی ہیں اور تینوں ویکسین کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ عام طو ر پر یہ ان علاقوں یا آبادیوں میں ہی استعمال کرائی جاتی ہیں جہاں ہیضہ کی وبا پھوٹنے یا بڑھ جانے کا خدشہ ہو۔