انیمیا یا خون کی کمی:

انیمیا یا خون کی کمی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسانی جسم کے اندر خون کے سرخ خلیوں (ریڈ بلڈ سیل) کی تعداد یا ان خلیوں کے اندر ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہوجاتی ہے۔اس کمی کے نتیجہ میں جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن لے جانے کے لیے خون کی صلاحیت بھی کم ہو جا تی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا اور سانس کی قلت جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ زندگی کو برقرار رکھنے اور جسمانی افعال کے جاری رکھنے کےلئے ہمیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم کے اندر آکسیجن کی ٹرانسپورٹ کاکام سرخ خلیوں میں موجود ایک پروٹین یعنی ہیموگلوبن کرتی ہے۔ہیموگلوبن کی کمی، یا مجموعی طو ر پر سرخ خلیوں کی کمی جسم میں آکسیجن کی کمی لاتی اور مختلف علامتوں اور پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔

مختلف لوگوں میں جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ ہیموگلوبن کی مقدار ان کی عمر، جنس، سطح سمندر سے ان کی جائے رہائش کی بلندی، تمباکو نوشی کی عادت اور حمل کی حیثیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔مثلاً بچوں میں بڑوں کی نسبت یہ مقدار کم ہوتی ہے، عورتوں میں مردوں کی نسبت کم ہوتی ہے، زمین کے اوپر بلند مقامات مثلاً پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں میں یہ مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ حاملہ عورتوں میں ہیموگلوبن اپنے بچے کے ساتھ شیئر کرنے کی وجہ سے خون کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔

خون کی کمی کئی عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہے ان میں غذائی اجزاء کی کمی یا غذائی اجزاء کا جسم میں ناکافی مقدار میں جذب ہونا، انفیکشن (مثلاً ملیریا، یا دیگر پیرا سائٹس کی انفیکشن، تپ دق، ایچ آئی وی)، سوزش، دائمی بیماریاں، امراض نسواں اور زچگی کے حالات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موروثی طور پر سرخ خون کے خلیات کی کمی یا ان خیلوں میں کوئی خرابی خون کی کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔ تاہم انیمیا کی سب سے عام غذائی وجہ آئرن کی کمی ہے، اس کے علاوہ دیگر غذائی اجزا مثلاً فولیٹ، وٹامن بی 12 اور اے کی کمی بھی انیمیا کی اہم وجوہات ہیں۔

خون کی کمی صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ویسے تو ہر عمر میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن خاص طور پر چھوٹے بچوں، ماہواری کی عمر میں داخل ہونے والی نوعمر لڑکیوں اور خواتین اور حاملہ خواتین کو متاثر کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں چھ ماہ سے چھ برس تک عمر کے 40% بچے، کل حاملہ خواتین میں سے ایک تہائی سے زیادہ (37% ) اور 15-49 سال کی عمر کی ایک تہائی سے ذرا کم (30%) خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

خون کی کمی بہت سی غیر مخصوص علامات کا سبب بن سکتی ہے جن میں تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا، غنودگی، اور سانس میں دشواری شامل ہیں۔تھوڑا سا کام کرنے سے بھی انیمیا کے معیض میں سانس پھولنے لگتا ہے۔خون کی شدید کمی دوران زچگی عورتوں، اور ابتدائی سالوں میں بچوں کی اموات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔اس کے علاوہ انیمیا بچوں میں ذہنی و جسمانی نشوونما اور دماغی صلاحیت کو متاثر کرتا اور بڑوں میں جسمانی و ذہنی کارکردگی کو کم کرتا ہے۔

خون کی کمی ناقص غذائیت اور خراب صحت دونوں کی علامت ہے۔ یہ خود تو ایک بیماری ہے ہی، لیکن یہ بچوں میں صحت کے دیگرمسائل کے خطرات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ مثلاً بچوں میں قد کا چھوٹا رہ جانا، وزن کم ہونا اور سٹنٹنگ اور بربادی، کم پیدائشی وزن اور دونوں مسائل (چھوٹا قد اور کم وزن) کا بیک وقت موجود ہونا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں میں ورزش کے لیے توانائی کی کمی کی وجہ سے موٹاپا بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے بچوں کی اسکول میں کارکردگی اور بالغوں میں کام کی صلاحیت میں کمی، اس شخص اور خاندان کے لیے مزید سماجی اور معاشی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

انیمیا کے علاج میں اس کی وجہ تک پہنچنا اور اس کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ آئرن کی کمی انیمیا کی سب سے عام شکل ہے اور اس کا علاج اکثر غذائی تبدیلیوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انیمیا کی دیگر اقسام کا علاج بنیادی انفیکشنز اور دائمی حالات سے نمٹنے کے ذریعے کیا جانا چاہیے جن میں صحت کی جامع جانچ پڑتال اور تشخیص کردہ مسئلے کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔