انیمیا یا خون کی کمی

انیمیا یا خون کی کمی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسانی جسم کے اندر خون کے سرخ خلیوں (ریڈ بلڈ سیل) کی تعداد یا ان خلیوں کے اندر ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہوجاتی ہے۔ہیمو گلوبن وہ مادہ ہے جو آکسیجن کو اپنے ساتھ چمٹا کر رکھتا اور تمام جسم کو آکسیجن پہنچاتا ہے۔ سرخ خلیوں یا ہیمو گلوبن میں کمی کے نتیجہ میں جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن پہنچنے میں کمی آ جا تی ہے۔یوں تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا اور سانس کی دشواری جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

Image: Roger Brown/Pexels

ہم جانتے ہیں کہ زندگی کو برقرار رکھنے اور جسمانی افعال کے جاری رکھنے کےلئے ہمیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم کے اندر آکسیجن کی ٹرانسپورٹ کاکام سرخ خلیوں میں موجود ایک پروٹین یعنی ہیموگلوبن کرتی ہے۔ہیموگلوبن کی کمی، یا مجموعی طو ر پر سرخ خلیوں کی کمی جسم میں آکسیجن کی کمی لاتی اور مختلف علامتوں اور پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔

مختلف لوگوں میں جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ ہیموگلوبن کی مقدار ان کی عمر، جنس، سطح سمندر سے ان کی جائے رہائش کی بلندی، تمباکو نوشی کی عادت اور حمل کی حیثیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔مثلاً بچوں میں بڑوں کی نسبت یہ مقدار کم ہوتی ہے، عورتوں میں مردوں کی نسبت کم ہوتی ہے، زمین کے اوپر بلند مقامات مثلاً پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں میں یہ مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ حاملہ عورتوں میں ہیموگلوبن اپنے بچے کے ساتھ شیئر کرنے کی وجہ سے خون کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔

خون کی کمی کیسے پیدا ہوتی ہے؟
خون کی کمی کئی عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہے ان میں غذائی اجزاء کی کمی یا غذائی اجزاء کا جسم میں ناکافی مقدار میں جذب ہونا، انفیکشن (مثلاً ملیریا، یا دیگر پیرا سائٹس کی انفیکشن، تپ دق، ایچ آئی وی)، سوزش، دائمی بیماریاں، امراض نسواں اور زچگی کے حالات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موروثی طور پر سرخ خون کے خلیات کی کمی یا ان خلیوں میں کوئی خرابی خون کی کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔ تاہم انیمیا کی سب سے عام غذائی وجہ آئرن یا فولاد کی کمی ہے، اس کے علاوہ دیگر غذائی اجزا مثلاً فولیٹ، وٹامن بی 12 کی کمی بھی انیمیا کی اہم وجوہات ہیں۔

خون کی کمی صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ویسے تو ہر عمر میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن خاص طور پر چھوٹے بچوں، ماہواری کی عمر میں داخل ہونے والی نوعمر لڑکیوں اور خواتین اور حاملہ خواتین کو متاثر کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں چھ ماہ سے چھ برس تک عمر کے 40% بچے، کل حاملہ خواتین میں سے ایک تہائی سے زیادہ (37% ) اور 15-49 سال کی عمر کی ایک تہائی سے ذرا کم (30%) خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

علامات اور علاج
خون کی کمی بہت سی غیر مخصوص علامات کا سبب بن سکتی ہے جن میں تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا، غنودگی، اور سانس میں دشواری شامل ہیں۔تھوڑا سا کام کرنے سے بھی انیمیا کے معیض میں سانس پھولنے لگتا ہے۔خون کی شدید کمی دوران زچگی عورتوں، اور ابتدائی سالوں میں بچوں کی اموات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ کمی بچوں میں ذہنی و جسمانی نشوونما اور دماغی صلاحیت کو متاثر کرتی اور بڑوں میں جسمانی و ذہنی کارکردگی کو کم کرتی ہے۔

خون کی کمی ناقص غذائیت اور خراب صحت دونوں کی علامت ہے۔ یہ خود تو ایک بیماری ہے ہی، لیکن یہ بچوں میں صحت کے دیگرمسائل کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ مثلاً خون کی کمی کی وجہ سے بچوں میں قد چھوٹا رہ سکتا ہے، وزن کم ہو سکتا ہے۔بہت سے بچوں میں یہ دونوں پیچیدگیاں یعنی قد چھوٹا اور وزن کم ہونا، اکٹھی ہو جاتیں اور سوکھے کی بیماری (Stunting) کا باعث بنتی ہیں۔
اس کے بالکل الٹ، بعض بچوں میں توانائی کی کمی کی وجہ سے ورزش یا تیز حرکت نہ کرپانے کے باعث موٹاپا بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے بچوں کی اسکول میں کارکردگی اور بالغوں میں کام کی صلاحیت میں کمی، اس شخص اور خاندان کے لیے مزید سماجی اور معاشی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

انیمیا کے علاج میں اس کی وجہ تک پہنچنا اور اس کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ فولاد کی کمی انیمیا کی سب سے عام شکل ہے اور اس کا علاج اکثر غذائی تبدیلیوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انیمیا کی دیگر اقسام کا علاج بنیادی انفیکشنز کی تشخیص کرنے اور دائمی حالات سے نمٹنے کے ذریعے کیا جانا چاہیے جن میں صحت کی جامع جانچ پڑتال اور تشخیص کردہ مسئلے کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

References

https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/anaemia