ماحولیاتی آلودگی:

ماحولیاتی یا فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) سے جڑا ہوا موضوع ہے۔ چونکہ دونوں کا انسانی صحت اور زندگی پر اثر مختلف طریقوں سے ہوتا ہے، اس لئے انہیں الگ الگ کر کے دیکھنا چاہیئے۔ زیر نظر مضمون ماحولیاتی یا فضائی آلودگی اور اس سے صحت اور زندگی پر اثرات کے بارے میں ہے۔

ماحولیاتی آلودگی ان مادوں کے ماحول میں پھیل جانے کا نتیجہ ہے جن کا اثر انسانی صحت پر اچھا نہیں۔یہ مادے کیمیائی (مثلاً کاربن مونو آکسائیڈ گیس)، فزیکل ( مثلاً ہوا میں اڑنے والے ذرات جو سانس کے زریعے پھیپھڑوں میں جا کر جمع ہو جائیں) یا بایولوجیکل (مثلاً پودوں سے اڑنے والے ذرات جو الرجی کا باعث ہیں) نوعیت کے ہو سکتے پیں اور زیادہ مقدار میں ہو جائیں تو آلودگی پیدا کر کے ماحول کی قدرتی خصوصیات کو تبدیل کردیتے ہیں۔

گھریلو استعمال کے آلات، موٹر گاڑیاں، صنعتی سہولیات اور جنگل میں لگ جانے والی آگ فضائی آلودگی کے عام ذرائع ہیں۔ ان ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگیوں میں فزیکل ذرات، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔اپنے نقطہ آغاز کے حساب سے یہ آلودگی گھر کے اندرونی یا گھر سے باہر کے ماحول میں آلودگی کا پھیلاتی اور بیماری اور اموات کا سبب بنتی ہے۔

بیرونی فضائی آلودگی ایک اہم ماحولیاتی صحت کا مسئلہ ہے جو کم، درمیانی اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں ہر ایک کو متاثر کرتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ۲۰۱۹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دینا کی تقریباً 99٪ آبادی ایسی ہوا میں سانس لیتی ہے جو ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق نہیں۔اس وقت نہ صرف آلودگی کی اعلی سطح دیکھنے میں آئی بلکہ یہ بھی کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی سے عام طور پر گھر سے باہر کے ماحول میں آلودگی ذہن میں آتی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ شہر اور دیہات دونوں جگہ بیرونی فضائی آلودگی باریک ذرات کا باعث بن رہی ہے جس کے نتیجے میں فالج، دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، شدید اور دائمی سانس کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔تا ہم یہ بات بھی اپنی جگہ بڑی حقیقت ہے کہ تقریباً 2.4 بلین لوگ گھریلو فضائی آلودگی کی خطرناک سطح سے دوچار ہیں۔

گھروں میں مٹی کے تیل کا استعمال، قدرتی ذریعے (لکڑی، جانوروں کا گوبر اور فصلوں کا فضلہ) اور کوئلے سے کھانا پکانا عام ہے جس سے آلودگی پورے گھر میں پھیلتی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق دونوں طرح یعنی بیرونی و گھریلو آلودگی سے ہونے والی اموات کی تعداد سالانہ 7 ملین ہے اور قبل از وقت ہونے والی ان اموات کو ماحولیاتی اقدامات سے بچایا جا سکتا ہے ۔

WHO کا تخمینہ ہے کہ 2019 میں دل کے دورے یا فالج سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً 37% قبل از وقت اموات ایسی تھیں کہ جن کی تہہ میں ماحولیاتی مسائل کار فرما تھے۔اس کے علاوہ 18% اموات جو پھیپھڑوں کے آہستہ آہستہ ناکارہ ہوجانے، 23% اموات جو شدید انفیکشن (نمونیا) کی وجہ سے، اور 11% اموات جو سانس کی نالی کے کینسر کی وجہ سے ہوئیں، ان کی بنیادی وجہ ماحول کی آلودگی تھی۔

ماحول بہتر کرنے کےلئے کیا کرنا چاہیئے:

فضائی آلودگی سے نمٹنا، جو کہ غیر متعدی بیماریوں کا دوسرا سب سے بڑا خطرہ عنصر ہے، عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔گھر سے باہر پیش آنے والی فضائی آلودگی کے زیادہ تر ذرائع افرادی سطح پر کنٹرول سے باہر ہیں۔ انہیں کنٹرول کرنے کےلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، فضلہ تلف کرنےکے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور زراعت جیسے شعبوں میں کام کرنے والے مقامی، قومی اور علاقائی سطح کے پالیسی سازوں کی طرف سے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

صنعت کے لیے: صاف ستھری ٹیکنالوجیز متعارف کروانا جو صنعتی دھوئیں کے اخراج کو کم کرتی ہیں۔ شہری اور زرعی فضلہ کا بہتر انتظام، بشمول کچرے سے پیدا ہونے والی میتھین گیس کو متبادل ایندھن کے طور پر فروغ دینا۔

گھریلو توانائی کے لیے: کھانا پکانے، حرارتی اور روشنی کے لیے سستی گھریلو توانائی تک رسائی یقینی بنانا۔

نقل و حمل کے لیے: بجلی پیدا کرنے کے وہ طریقے اپنانا جو آلودگی پیدا نہیں کرتے۔ شہروں میں تیز رفتار آمدورفت، پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ ریلوے کو بہتر بنانا، ہیوی ڈیوٹی ڈیزل گاڑیوں سمیت گاڑیوں کے ایندھن کو کم سلفر والے ایندھن پر منتقل کرنا۔

شہری منصوبہ بندی:ایسی عمارتوں کی تعمیر کرنا جو توانائی کی بچت کرنے میں مدد گار ہوں ۔شہروں کو زیادہ سبز اور کم پھیلاو والا بنانا، تا کہ توانائی کی بچت ہو۔

بجلی کی پیداوار کے لیے: کم آلودگی کےاخراج والے ایندھن استعمال کرنا، خاص طور پر وہ جو بار بار استعمال کئے جا سکیں (جیسے شمسی، ہوا یا پن بجلی)۔

میونسپل اور زرعی فضلہ کے انتظام کے لیے: فضلہ کو کم کرنے، فضلہ کو الگ کرنے، ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کرنے یا فضلہ کی دوبارہ پروسیسنگ کے لیے حکمت عملی، نیز حیاتیاتی فضلہ کے انتظام کے بہتر طریقے جیسے کہ بائیو گیس پیدا کرنے کا نطام قائم کرنا۔