آلودگی کہاں سے آتی ہے؟
بیرونی فضائی آلودگی ماحولیاتی صحت کا ایک اہم مسئلہ ہے جو کم، درمیانی اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں ہر ایک کو متاثر کرتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے 2019 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دینا کی تقریباً 99٪ آبادی ایسی ہوا میں سانس لیتی ہے جو ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق نہیں۔ اس وقت کے اعدادوشمار سے آلودگی کی زیادہ شرح ہی سامنے نہیں آئی بلکہ یہ حقیقت بھی کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی کے نام سے عموماً گھر سے باہر کے ماحول کی آلودگی ذہن میں آتی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ شہر اور دیہات دونوں جگہ بیرونی فضائی آلودگی باریک ذرات کا باعث بن رہی ہے جس کے نتیجے میں فالج، دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، اور سانس کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ بڑی حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک تہائی آبادی (تقریباً 2.4 بلین لوگ) گھر کی اندرونی فضائی آلودگی کی خطرناک سطح سے دوچار ہیں۔
گھروں میں مٹی کے تیل کا استعمال، قدرتی ذریعے (لکڑی، جانوروں کا گوبر اور فصلوں کا فضلہ) اور کوئلے سے کھانا پکانا عام ہے جس سے آلودگی پورے گھر میں پھیلتی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق دونوں طرح یعنی بیرونی و گھریلو آلودگی سے ہونے والی اموات کی تعداد سالانہ 7 ملین ہے اور قبل از وقت ہونے والی ان اموات کو ماحولیاتی اقدامات سے بچایا جا سکتا ہے ۔
WHO کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں دل کے دورے یا فالج سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً 37% قبل از وقت اموات ایسی تھیں کہ جن کی تہہ میں ماحولیاتی مسائل کار فرما تھے۔ اس کے علاوہ 18% اموات جو پھیپھڑوں کے آہستہ آہستہ ناکارہ ہوجانے، 23% اموات جو شدید انفیکشن (نمونیا) کی وجہ سے، اور 11% اموات جو سانس کی نالی کے کینسر کی وجہ سے ہوئیں، ان کی بنیادی وجہ بھی ماحول کی آلودگی تھی۔
ماحول بہتر کرنے کےلئے کیا کرنا چاہیئے ؟
فضائی آلودگی سے نمٹنا عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، یہ غیر متعدی بیماریوں کا دوسرا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ گھر سے باہر پیش آنے والی فضائی آلودگی کے زیادہ تر ذرائع افرادی سطح پر کنٹرول سے باہر ہیں۔ انہیں کنٹرول کرنے کےلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، فضلہ تلف کرنےکے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور زراعت جیسے شعبوں میں کام کرنے والے مقامی، قومی اور علاقائی سطح کے پالیسی سازوں کی طرف سے مندرجہ ذیل ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
· صنعت کے لیے: صاف ستھری ٹیکنالوجیز متعارف کروانا جو صنعتی دھوئیں کے اخراج کو کم اور صاف کرتی ہیں۔ شہری اور زرعی فضلہ کا بہتر انتظام، بشمول کچرے سے پیدا ہونے والی میتھین گیس کو متبادل ایندھن کے طور پر فروغ دینا۔
· گھریلو توانائی کے لیے: کھانا پکانے، گھریلو درجہ حرارت اور روشنی کے لیے سستی اور ماحول دوست گھریلو توانائی تک رسائی یقینی بنانا۔
· نقل و حمل کے لیے: بجلی پیدا کرنے کے وہ طریقے اپنانا جو آلودگی پیدا نہیں کرتے۔ شہروں میں ماحول دوست آمدورفت، پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ ریلوے کو بہتر بنانا، ہیوی ڈیوٹی ڈیزل گاڑیوں سمیت گاڑیوں کے ایندھن کو کم سلفر والے ایندھن پر منتقل کرنا۔
· شہری منصوبہ بندی:ایسی عمارتوں کی تعمیر کرنا جو توانائی کی بچت کرنے میں مدد گار ہوں ۔شہروں کو زیادہ سبز اور کم پھیلاو والا بنانا، تا کہ توانائی کی بچت ہو۔
· بجلی کی پیداوار کے لیے: کم آلودگی کےاخراج والے ایندھن استعمال کرنا، خاص طور پر وہ جو بار بار استعمال کئے جا سکیں (جیسے شمسی، ہوا یا پن بجلی)۔
· میونسپل اور زرعی فضلہ کے انتظام کے لیے: فضلہ کو کم کرنے، مختلف اقسام کے فضلہ کو الگ الگ کرنے، ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کرنے یا فضلہ کی دوبارہ پروسیسنگ کے لیے حکمت عملی، نیز حیاتیاتی (بائیولوجیکل) فضلہ کے انتظام کے بہتر طریقے جیسے کہ بائیو گیس پیدا کرنے کا نطام قائم کرنا۔
References
https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/ambient-(outdoor)-air-quality-and-health
