ویڈیو گیمنگ خاص طور پر نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے ۔حالیہ برسوں میں ذہنی صحت اور تعلیم کے ماہرین کے درمیان یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ بعض صورتوں میں ویڈیو گیم کھیلنے والے کے لیے ذاتی، خاندانی، سماجی، تعلیمی، پیشہ ورانہ یا کام کے دیگر اہم شعبوں میں نمایاں خرابی اور نفسیاتی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں جوا کھیلنے کو تفریح کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے، ایسی تفریح جس میں شرط لگانے یا ممکنہ طور پر پیسہ جیتنے کا امکان ایک نفسیاتی ہیجان اور ایکسائٹمنٹ کو جنم دیتاہے۔ اگر چہ یہ رویہ اگر بار بار اپنایا جائے تو یہ ذہنی پریشانی، دباو یا مزید خراب عادتوں کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
حالیہ دہائیوں میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر، اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، اور یہ اضافہ ایک طرف تو صارفین کے لیے واضح اور زبردست فوائد کے ساتھ منسلک ہے مگر دوسری طرف ان آلات کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت پر منفی اثرات کا سبب بھی بنتا ہے۔ گیمنگ رویے سے منسلک صحت کے خدشات صرف ذہنی مسائل تک ہی محدود نہیں، یہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ناکافی جسمانی سرگرمی، غیر صحت بخش خوراک، بینائی یا سماعت کے مسائل، عضلاتی مسائل، نیند کی کمی، اور اس سے منسلک صحت کے مسائل جیسے ڈپریشن اس فہرست میں شامل ہیں۔
گیمنگ اور اس سے منسلک جوئے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اہم ہیں۔اس بارے میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جوئے کی وجہ سے ہونے والے ممکنہ نقصانات اتنا ہی حجم رکھتے ہیں جتنا کہ ڈپریشن اور الکحل کے استعمال سے ہونے والے نقصانات ۔ڈپریشن اور الکحل کی طرح یہ گیمنگ کے نقصانات بھی ایسا کرنے والے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان اور کمیونٹی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔