تحریر: ڈاکٹر زعیم الحق
30مارچ 2026
کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران عوام کو جن پہلووں کے بارے میں معلومات رکھنا اور وبا کو روکنے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنا ضروری تھا ان کی تفصیلات اردو.ہیلتھ کے دیگر صفحات پر موجود ہیں۔ ان میں کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے اور اس سے کیسے بچیں، کرونا کا علاج، کرونا وبا کے کنٹرول میں ویکسین کا کردار، کرونا اور مفروضے، اور کرونا وائرس کا موٹاپے اور ذیابیطس سے تعلق شامل ہیں۔ یہ مضمون جو کرونا وبا کے اختتام کے تین سال بعد تحریر کیا جا رہا ہے، قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ کیا کرونا کی انفیکشن آج بھی ہمارے ارد گرد موجود ہے، اگر ہاں تو اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اور یہ کہ کرونا کے کون سے طویل مدتی اثرات (Long Covid)عام لوگوں کی معلومات کےلئے اہم ہیں۔
کرونا وائرس۔سن2026 میں
دنیا میں جہاں جہاں ابھی تک کرونا کے ممکنہ مریضوں میں اس کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ کرونا وائرس کی بیماری اب بھی کافی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ لیبارٹریاں استعمال شدہ پانی (ویسٹ واٹرWaste Water) میں کرونا وائرس کی جانچ بھی کرتی رہتی ہیں۔ ان رپورٹس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کرونا کا وائرس ہمارے ارد گرد موجود ہے۔
ان معلومات کی روشنی میں یہ حقیقت حیران کن نہیں کہ 9 فروری 2026سے 8 مارچ 2026 کے درمیان، 85 ممالک نے عالمی ادارہ صحت (WHO) کو مجموعی طور پر تقریباً 42,856 نئے COVID-19 کیسز کی اطلاع دی۔ یہ تعداد اس سے پچھلے ماہ (جنوری تا فروری) کی تعداد کے مقابلے میں قدرے کم ہے لیکن یہ اتار چڑھاو مسلسل دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔چونکہ دنیا کے بیشتر ممالک اب کووِڈ کے ٹیسٹ اس طرح نہیں کرتے جیسے کووڈ کی وبا کے دوران کرتے تھے، اس لئے رپورٹ شدہ کیسز کو بہت کم سمجھا جاتا ہے۔اور ماہرین کا اتفاق ہے کہ انفیکشن کی حقیقی تعداد تصدیق شدہ کیسوں سے زیادہ ہے (1)۔
کیا کرونا وائرس اب بھی شدید نوعت کی بیماری کرتا ہے؟ اس کا جواب اس کی تشخیص کی بنا پر ہسپتال میں داخل مریضوں اور موت کا شکار ہونے والوں کی تعدادسے ہوتا ہے۔ 9 فروری 2026سے 8 مارچ 2026 کے درمیان ایک ماہ کے عرصے میں 38 ممالک نے کووڈ کی وجہ سے 1,158 اموات کی اطلاع دی۔ ان میں سے 91 فیصد اموات 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہوئیں۔یعنی کرونا کی بیماری نہ صرف ہمارے ارد گرد موجود ہے بلکہ وبا کے دنوں کی طرح آج کل بھی زیادہ عمر کے لوگ اس کی شدید نوعیت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
کرونا کی وبا کے دوران ہم نے جانا کہ اس طرح کے وائرس اپنی ساخت میں وقت کے ساتھ تبدیلی کرتے رہتے ہیں جس سے یہ لمبے عرصے تک زندہ رہتے اور مسلسل بیماری کا باعث بنتے ہیں، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مختلف ادارے وائرس میں تبدیلی کے اس عمل کو پرکھتے رہتے ہیں۔ ان میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) بھی ہے جو کئی مختلف حالات کی نگرانی کر رہا ہے۔ ان میں XFG اور ایک نئی قسم BA.3.2 شامل ہیں ، BA.3.2 کرونا کے خلاف انسانی جسم میں مدافعت کے موجودہ نظام کو توڑ کر بیماری پیدا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے اور مارچ 2026 کی رپورٹس کے مطابق، اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے (2)۔
کسے احتیاط کرنی چاہیئے اور کیسے؟
چونکہ کرونا وائرس ہمارے ماحول میں اب بھی موجود ہے اور کسی حد تک نئی ہیئت اختیار کر نے اہلیت بھی رکھتا ہے، اس لئے اب بھی اس سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ احتیاط ان لوگوں میں زیادہ اہم ہے جن کے جسم وائرس اور دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت نہیں کر سکتے ۔ زیادہ عمر کے لوگ، وہ لوگ جن کی قوت مزاحمت کسی اور بیماری (مثلاً کینسر) کی وجہ سے کم ہے یا جو ایسی دوائیں لے رہے ہیں جو قوت مزاحمت کو کم کرتی ہیں، ان میں احتیاطی تدابیر زیادہ ضروری ہیں۔
سن 2026 میں وائرس کی صورتِ حال کے حساب سے ماہرین کا خیال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر بچاو کے قوانین اور ان کے سختی سے اطلاق کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو انفرادی طور پر اپنے رسک کو جانچنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے۔ مندرجہ ذیل نکات اس انفرادی فیصلہ میں اہم ہیں:
1. ویکسینیشن: کووڈ کی سالانہ ویکسین اب ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جن میں خطرہ زیادہ ہے۔ تاکہ اس وقت گردش کرنے والے وائرس کے خلاف موثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ویکسین سے ملنے والی قوت مدافعت وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے، اس لئے ہر سال اس کا بوسٹر لگوانا اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو 65 برس سے زیادہ عمر یا ایسے حالات میں ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔
2. ماسک کا استعمال: ایسے حالات جن میں وائرس کے ایک سے دوسرے انسان تک پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو وہاں ماسک ضرور پہنیں، مثلاً بھیڑ بھاڑ والی جگہیں ، ہسپتال جہاں مریضوں میں کرونا کے مریض بھی ہو سکتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ ۔
3. کرونا کا ٹیسٹ: نزلہ یا فلو جیسی علامات والے افراد کو ٹیسٹ کرانا چاہیے، خاص طور پر اگر وہ کسی ایسے شخص سے قریبی رابطے میں رہے ہوں جس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو یا وہ زیادہ شدید بیماری والے افراد کے قریب رہے ہوں۔ وبا کے دوران ہم نے جانا کہ عام نزلہ زکام کے مقابلے میں کرونا کا مریض اپنی چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، یہ بات آج بھی کافی حد تک سچ ہے اور دونوں طرح کی بیماری میں فرق کرنے میں مدد دیتی ہے۔
4. آئسولیشن: بیمار ہونے کی صورت میں گھر میں رہنا اور دوسروں سے ملنے جلنے سے پرہیز ایک اہم ذمہ داری ہے تاکہ دوسروں میں وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے، چاہے علامات ہلکی ہی کیوں نہ ہوں۔
5. حفظان صحت اور تازہ ہوا کو یقینی بنانا: بار بار ہاتھ دھونا اور اندرونی ہوا کے معیار کو بہتر بنانا اآج بھی بچاو کے موثر طریقے ہیں۔ ہاتھوں کو صابن سے دھونا چاہیئے اور گھر میں ہوا کی آمدورفت کےلئے کھڑکیوں کو کھلا رکھنا چاہیئے۔
لانگ کووڈ(Long Covid) کیا ہے؟
COVID-19 کے دوران ہم نے یہ دیکھا کہ کچھ لوگ تو شدید بیماری کا شکار ہوتے اور انہیں ہسپتال میں داخلہ لینا پڑتا ہے اور ان میں سے بعض کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگ وہ تھے جو کچھ دیر انفیکشن کا شکار ہو کر صحت یاب ہو تے اور دوبارہ اپنی نارمل زندگی میں مصروف ہو جاتے۔ لیکن ان میں سے بعض لوگوں میں کچھ علامات ایسی موجود رہیں جو کووڈ سے پہلے ان میں نہیں تھیں۔ ان علامات کی مسلسل موجودگی اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل طویل مدتی یا لانگ کووڈ کہلائے۔ یہاں ہم مختصراً ان مسائل اور ان کے حل کا ذکر کر رہے ہیں:
1. کوووڈ کے دوران اعداد و شمار محدود ہونے کی وجہ سے خیال کیا جاتا تھا کہ لانگ کووڈ زیادہ پیمانے پر موجود رہے گا۔ لیکن اب اس خطرے کا امکان پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر 100 میں سے تقریباً 6 افراد جنہیں کووڈ ہوا، ان میں کووڈ کے بعد کی پیچیدگیاں یا لانگ کووڈ دیکھنے میں آیا۔
2. تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری، پٹھوں یا جوڑوں میں درد، اور نیند کی کمی کووڈ-19 کے بعد کی حالت کی عام علامات ہیں۔
3. لانگ کووڈ پر تحقیق برابر جاری ہے اور اس کے ساتھ وائرس اب بھی بڑے پیمانے پر گردش کر رہا ہے، اور ہر نئے انفیکشن کے بعد لانگ کووڈ کا امکان بھی موجود رہتا ہے، اس لئے اس کیفیت کے بارے میں حتمی معلومات وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔
4. اس دوران کووڈ کے بعد کی پیچیدگیوں کے علاج کے لئے صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے پروفیشنل ہی اس بارے میں رہنمائی کر سکتے ہیں اور علامات سے نجات کے لیے دوائیں یا دیگر اقدامات تجویز کر سکتے ہیں (3)۔
References
1. https://data.who.int/dashboards/covid19/summary
2. https://data.who.int/dashboards/covid19/summary#:~:text=SARS%2DCoV%2D2%20reported%20cases,new%20cases%20of%20over%2010%25.
3. https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/post-covid-19-condition-(long-covid)
