اس رپورٹ کی اہمیت اور اس کے پاکستان سے تعلق کی تفصیل میں جانے سے پہلے تین باتوں کا جاننا ضروری ہے:
1) اعدادو شمار کے مطابق پاکستانی کھانے میں نمک کی مناسب مقدار سے دوگنا نمک استعمال کرتے ہیں۔ نمک میں بنیادی جزو سوڈیم ہے۔ نمک کے ایک پیکٹ میں چالیس فیصد سوڈیم اور بقیہ ساٹھ فیصد کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک بالغ اور صحت مند انسان کو چوبیس گھنٹے میں دو گرام سوڈیم کافی ہوتا ہے جو ایک چھوٹے، چائے کے چمچ برابر نمک میں موجود ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں عمومی طور پر لوگ اس سے دوگنا، یعنی دو چمچ کے قریب نمک استعمال کرتے ہیں۔آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ یہ کچھ بڑھا کر بیان کی ہوئی بات ہے، لیکن آگے چل کر جان جائیں گے کہ یہ ایک حقیقت ہے۔
2) نمک کا ضرورت سے زیادہ استعمال پاکستان میں بلڈ پریشر کی بیماری کا باعث بن رہا ہے۔ انسانی جسم میں گردے وہ عضو ہیں جو جسم کے اندر سوڈیم کا ایک توازن برقرار رکھتے ہیں۔جب ہم فالتو نمک کھاتے ہیں تو گردوں کو فالتو سوڈیم کے تناسب سے اضافی پانی بھی جسم میں قابو کر کے رکھنا پڑتا ہے۔یہ اضافی پانی خون میں شامل ہو کر خون کی مقدار بڑھا دیتا ہے جسے گردش میں رکھنے کے لئے دل کو زیادہ زور اور زیادہ رفتار کے ساتھ دھڑکنا پڑتا ہے ۔ یوں دل اور خون کی نالیاں، دونوں میں پریشر بڑھ جاتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں بلڈ پریشر کی بیماری کہتے ہیں۔ پاکستان کی بالغ آبادی کا تقریباً چالیس فیصد اس بیماری کا شکار ہے۔اوسطاً ایک گھر میں پانچ افراد ہوتے ہیں تو اس تخمینہ کے مطابق ہر گھر میں ایک سے دو بالغ افراد بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔
ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت
References
1. World Health Organization (2023). WHO global report on sodium intake reduction https://www.who.int/publications/i/item/9789240069985
2. Ashraf et al. (2025). Pakistan’s Silent Threat: The Escalating Crisis of Hypertension and Probable Recommendations. https://pakheartjournal.com/index.php/pk/article/view/3327/1778
3. Basit et al. (2020). Prevalence and contributing risk factors for hypertension in urban and rural areas of Pakistan; a study from second National Diabetes Survey of Pakistan (NDSP) 2016-2017. doi: 10.1080/10641963.2019.1619753.