خوش خوراکی، زیادہ کھانے کا نام نہیں:

ذیابیطس اب ہمارے ہاں ایک عام مسئلہ ہے۔ کیا آپ نے ان حضرات پر غور کیا ہے جو تیس برس کی عمر کو پھلانگنے کے ساتھ ہی ایک عدد توند کے مالک ہو جاتے ہیں جو ان کی قمیص سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی اور قمیص کے کھنچے ہوئے بٹنوں کو انتہائی بے ڈھنگا دکھاتی ہے۔ یا اس بات پر غور کیا ہے کہ ہمارے ہاں خواتین چالیس برس کی عمر کے قریب پہنچتے ہی کیوں گھٹنوں میں درد کی وجہ سے دائیں بائیں لہراکر چلنا شروع کر دیتی ہیں ۔

بے تکا کھانا اور وزن کا بے ہنگم انداز میں بڑھ جانا ایسے حضرات و خواتین میں صحت کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔کورونا وائرس کی عالمی وبا میں بھی یہ نوٹ کیا گیا کہ موٹاپے اور ذیابیطس کا شکار لوگ وائرس کا نشانہ بننے پر زیادہ شدید بیماری میں مبتلا ہوئے۔

ایک زمانہ تھا جب ذیابیطس اور بلڈ پریشر امیر ملکوں کے مسائل سمجھے جاتے تھے۔ کوئی دو دہائیوں سے یہ بات پبلک ہیلتھ میں عام ہوئی کہ دراصل غریب ملکوں میں بھی یہ بیماریاں کافی شرح میں پائی جاتی ہیں۔ پھر یہ بات سامنے آئی کہ جنوبی ایشیا کے ممالک یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لوگوں میں اس بیماری کا موروثی رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ اپنی پرانی نسلوں سے وراثت میں یہ بیماری ملنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے وہ لوگ جو اپنی غذا میں سبزیاں، گوشت اور پھل زیاہ شامل نہیں کرتے اور بس روٹی ، چال اور چینی والی اشیا پر گذارا کرتے ہیں ، وہ دو مرحلوں سے گزرتے ہیں۔ پہلے نمبر پر ان کا وزن نارمل سے بڑھ جاتا ہے اور دوسرے نمبر پر خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ رہنا شروع ہو جاتی ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ذیابیطس کہتے ہیں۔

غذا ئی بے احتیاطی کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہ کرنا بھی ان مسائل کو بڑھاتا ہے۔ پاکستان میں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں سے ایک چوتھائی آبادی ذیابیطس یا بلڈ پریشر (اور اکثر اوقات دونوں) میں مبتلا ہے۔بعض لوگوں کو اس بارے میں إحساس ہوتا اور وہ پوچھتے بھی ہیں لیکن کچھ اس طرح کہ "ڈاکٹر صاحب، کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جس کو کھا کر ہم پتلے ہو جائیں۔"

ماشا اللہ! یعنی انُ کا ذہن کہتا ہے کہ وزن کم کرنے کے لئے بھی کچھ "کھانا" چاہئیے۔

نئی نسل اس معاملہ میں قدرے بہتر ہے، اور اس بات کا کریڈٹ یقیناً ٹی وی پر آنے والے مردو خواتین ایکٹرز کو جاتا ہے یا پھر شاید کرکٹرز کو۔ کچھ ایسی ہی بات ایک دن ایئر پورٹ پر فلائٹ کا انتظار کرتے ہم نے سنی۔ ایک خوش گفتار اور صحت مند(موٹا نہیں) نوجوان فنکار اپنے ایک ساتھی کو جو برگر کھانا چاہ رہے تھے، کہنے لگے: "تمہیں اگر یہ چیزیں بہت پسند ہیں تو ضرور کھانی چاہئیں۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم ایک ہی دن میں اپنی زندگی کے تمام برگر کھانا چاہو گے یا تمام زندگی اس برگر کو انجوائے کرنا چاہو گے؟"

ساتھی جھلا کر بولا۔" کیا مطلب ہے بھئی! ایک ہی دن میں تمام زندگی کے برگر کوئی کیسے کھا سکتا ہے۔ پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟ "

جواب میں وہ بولے۔" ہر گز نہیں۔ میں حقیقت کی بات کر رہا ہوں ۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی زندگی میں جس قدر برگر تم کھا وٴ گے وہ تعداد تو متعین ہے، نہ تو اسے تم بدل سکتے ہو اور نہ کوئی اور۔ "

"وہ تو ہے"، دوسرا بولا۔

"سو میری جان، اگر اپنی محبوب غذا بہت زیادہ اور بار بار کھاؤ گے، اور ایسے کہ جیسے یہی ایک کھانے کی شے ہے اور یہی ایک دن ہے جس میں تم نے اسے ختم کرنا ہے تو دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔ یا تو اس مضر صحت غذا سے بیمار ہو جاو گے ا، مثلاً شوگر کا شکار، اور اپنی پسند کا کھانامزید نہیں کھا سکو گے ، یا منع کرنے کے باوجود باز نہیں آو گے ، بیماری پیچیدہ ہو جائے گی اور اسی تکلیف میں جلد ہی اس دنیا سے گزر جاو گے۔ دونوں طرح تم جسے اپنی خوشی یا لذت سمجھو گے ، وہ دراصل تمہاری بیماری اور تکلیف ہو گی۔ "

"ہاں ایک صورت ہے کہ جس میں تم اپنی مرضی کا کھانا ایک لمبی مدت کے لئے انجوائے بھی کرو اور بیماری اور تکلیف سے بھی نہ گزرو، اور وہ یہ ہے کہ ایسی چیز کبھی کبھار کھاو اور وہ بھی تھوڑی مقدار میں۔ کسی محبوب اور مرغوب شے کے انتظار میں اس کو پانے سے زیادہ نہیں تو اس سے کم مزا بھی نہیں ہوتا اور تھوڑی مقدار میں کھانے سے آئندہ کے لئے اس کی خواہش بھی موجود رہتی ہے۔ سو یہ وہ واحد طریقہ ہے کہ جس سے تم اپنی پسند کی اشیا تمام زندگی کھا سکتے ہو۔ "

فلائٹ کا اعلان ہو گیا۔ وہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے اور میں دوبارہ اپنی کتاب میں کھو گیا۔ لکھا تھا " لوگ اپنے گھر کو بنانے سنوارنے پر بہت توجہ کرتے ہیں۔ مرد اس کی تعمیر پر خرچہ کرتے اور عورتیں اس کی صفائی ستھرائی اور آرائش میں بے انتہا محنت کرتی ہیں۔ اور ایسے میں دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنی تمام زندگی دراصل جس مکان میں وہ گزارتے ہیں، وہ ان کا جسم ہوتا ہے۔ جتنا وقت، توجہ اور رقم وہ اپنے اس مکان کی مضبوطی پر خرچ کریں گے، اتنا ہی اس میں ٹوٹ پھوٹ کا امکان کم، اور پائیداری زیادہ ہو گی۔ "

دلیل یہ بھی مضبوط تھی لیکن نوجوان فن کار کا وہ جملہ یقیناً اس پوری کتاب سے زیادہ وزن دار تھا کہ اپنی زندگی کے دوران اپنا پسندیدہ کھانا ہم کتنا کھائیں گے، یہ تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن ایک وقت میں اس کی مقدار کو کم رکھ کے ہم اپنی زندگی کو طویل اور بہتر ضرور بنا سکتے ہیں۔