کورونا وائرس کی عالمی وبا میں بھی یہ نوٹ کیا گیا کہ موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا لوگ جب کرونا وائرس کا شکار ہوئے تو ان کی بیماری زیادہ شدید تھی ،ذیابیطس والے لوگوں کو اگر کرونا ہوا تو انہیں دوسرے مریضوں کے مقابلے میں ہسپتال میں داخلے اور علاج کی زیادہ ضرورت پیش آئی اور انتہائی نگہداشت میں علاج کے باوجود اسیے لوگوں میں موت کی شرح بھی زیادہ تھی۔
ایک زمانہ تھا جب ذیابیطس اور بلڈ پریشر امیر ملکوں کے مسائل سمجھے جاتے تھے۔ کوئی دو دہائیوں سے یہ بات عام ہوئی کہ دراصل غریب ملکوں میں بھی یہ بیماریاں کافی شرح میں پائی جاتی ہیں۔ پھر یہ بات سامنے آئی کہ جنوبی ایشیا کے ممالک یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لوگوں میں اس بیماری کا موروثی رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ اپنی پرانی نسلوں سے وراثت میں یہ بیماری ملنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے وہ لوگ جو اپنی غذا میں سبزیاں، گوشت اور پھل زیاہ شامل نہیں کرتے اور بس روٹی ، چاول اور چینی والی اشیا پر گذارا کرتے ہیں ۔ ایسے افراد دو مراحل سے گزرتے ہیں۔ پہلے نمبر پر ان کا وزن نارمل سے بڑھ جاتا ہے اور دوسرے نمبر پر خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ رہنا شروع ہو جاتی ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ذیابیطس کہتے ہیں۔
بیماریوں میں ہماری غذا کاعمل دخل
غذا ئی بے احتیاطی کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہ کرنا بھی ان مسائل کو بڑھاتا ہے۔ پاکستان میں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں سے ایک چوتھائی آبادی ذیابیطس یا بلڈ پریشر (اور اکثر اوقات دونوں) میں مبتلا ہے۔بعض لوگوں کو اس بارے میں إحساس ہوتا اور وہ پوچھتے بھی ہیں لیکن کچھ اس طرح کہ "ڈاکٹر صاحب، کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جس کو کھا کر ہم پتلے ہو جائیں۔ یعنی انُ کا ذہن کہتا ہے کہ وزن کم کرنے کے لئے بھی کچھ "کھانا" چاہئیے۔یہاں ہم صرف غذا کے بارے میں صحتمند عادات کا ذکر کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک صحتمند وزن برقرار رکھنے اور ذیابیطس جیسی بیماریوں سے بچنے کےلئے مناسب غذا کے ساتھ جسمانی نقل و حرکت اور ورزش بھی بہت ضروری ہے۔
وزن زیادہ ہونے اور ذیابیطس کی طرف جلد قدم رکھ دینے کا ایک سبب ہمارا فوڈ کلچر بھی ہے۔ وہ غذائیں جو لمبی عمر اور اچھی صحت کی طرف لے کر جاتی ہیں مثلاً سبزیاں، دالیں، پودوں سے ملنے والی پروٹین ، اور دودھ دہی وغیرہ، ان کی بجائے روزمرہ کی غذاروٹی، چاول، زیادہ گھی یا تیل والا سالن ، اور سافٹ ڈرنکس پر مشتمل ہے۔ کھانے پینے کے بے تکے اوقات اس کے علاوہ ہیں۔ صحتمند غذا اچھی صحت کی بنیاد رکھتی ہے اور زندگی میں یہ بنیاد جتنی جلد رکھ لی جائے، اتنا ہی اچھا ہے۔ اگر ایک نوجوان لڑکا یا لڑکی مندرجہ ذیل عادات کو جلد اپنا لیں تووہ نہ صرف دل کی بیماری، ذیابیطس، موٹاپا، اور غذائی اجزاء کی کمی جیسے خطر ات کو کم کرتے بلکہ صحتمند اور لمبی زندگی کے امکانات کو بھی بڑھا لیتے ہیں۔ خوش خوراک بنیں، یہ عادتیں اپنائیں :
1) روٹی یا چاول کے حصے معتدل رکھیں: خوراک میں پیٹ بھرنے والے اجزا (انگریزی میں انہیں اسٹیپل فوڈ کہا جاتا ہے) کے طور پر ہمارے ہاں چپاتی اور چاول پر زور ہوتا ہے، ان کی مقدار کو کنٹرول کریں۔ ایک وقت میں ایک یا دو چپاتی (تنور پر بنی روٹی ہو تو ایک، اور گھر میں توے پر بنی چھوٹی چپاتی ہو تو دو) یا ایک چھوٹا پیالہ چاول کھائیں۔ برے اور اچھے نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو پہچانیں۔ میدے سے بننے والی اشیا جیسے نان، سفید روٹی یا ڈبل روٹی اور چاولوں میں باسمتی چاول ، اچھے کاربوھائیڈریٹ نہیں۔ مسلسل انہیں استعمال کرنے والوں میں ذیابیطس زیادہ دیکھنے میں اآتی ہے۔ ان کی بجائے چوکر والی روٹی (Whole Grain) اور موٹے چاول یا سیلا رائس استعمال کریں۔
2) روزانہ دال یا پھلیاں اپنی خوراک میں شامل کریں : ہمارے ہاں عام طور پر استعمال ہونے والی خوراک میں پودوں سے ملنے والی پروٹین پر انحصار کیا جاتا ہے، جو کہ ایک اچھی بات ہے۔ ان روایتی غذاوں میں دال، چنے، مٹر، سفید اور سرخ لوبیا اوردیگر پھلیاں شامل ہیں۔انہیں روزانہ اپنی خوراک میں شامل رکھنا چاہیئے، ہر دفعہ سالن کے طور پر پکانے کی بجائے انہیں ابال کر سلاد کی صورت میں استعمال کرنا اور بھی اچھا ہے۔ یہ پلانٹ پروٹینز، معدے اور انتڑیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں کیونکہ ان میں فائبر بھی ہے جس سے پیٹ بھر تا اور خون میں لیسٹرول کم ہوتا ہے۔
3) دوپہر یا رات کے کھانے کے ساتھ کچی سبزیاں شامل کریں: اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ سلاد کو کھانے کا ایک لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ سلاد کے نام پر بہت خرچہ یا اہتمام کیا جائے۔ عام سبزیاں مثلاً کھیرا، ٹماٹر، گاجر، مولی بہت اچھا سلاد ہیں۔ ان کا استعمال جسم میں فائبر کی مقدار کو بہتر بناتا ہے۔ اور اور بھاری کھانوں سے پہلے ہی خوراک سے سیر ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔
4) کھانا پکانے میں کم تیل استعمال کریں: ہمارے ہاں بہت سے پکوانوں (کڑاہی، قورمہ، بریانی وغیرہ ) میں تیل کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔زیادہ گھی یا تیل فائدے کی بجائے نقصان دہ ہے۔ اس کی کم سے کم مقدار میں کھانا پکانے کو ترجیح دیں۔پکانے کے لئے سرسوں یا زیتون کا تیل استعما ل کریں۔ تیل کی مناسب مقدار کا ایک سا د ہ ا صول یہ ہے کہ ہانڈی، ڈونگے یا پلیٹ میں تیل سالن کے اوپر تیرنا نہیں چاہیے۔
5) منہ میٹھا کر نے کےلئے پھل کھائیں: اگر آپ کو ذیابیطس نہیں اور منہ میٹھا کرنے کو دل چاہتا ہے تو مٹھائی یا چاکلیٹ کی بجائے پھل یا گھر کا بنا ہوا میٹھا کھائیں جس میں سفید چینی استعمال نہ ہو یا کم سے کم ہو۔ ہمارے ہاں موسمی پھل وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔امرود، آم، کینو، انار جیسے پھلوں کو ہی منہ میٹھا کرنے اور کروانے کا ذریعہ بنائیں۔ پھل یقیناً مہنگے ہیں اور اگر انہیں خریدنا ایک مسئلہ ہو تو قدرتی طور پر میٹھی اور کم مہنگی اشیا مثلاً کھجور ، گڑ اور شکر کی معمولی مقدار سے منہ میٹھا کیا جا سکتا ہے۔
6) میٹھے مشروبات اور چائے کو محدود کریں: چینی اور میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس یا دودھ اور چینی والی چائے کا بار بار استعمال جسم میں شوگر کی مقدار کو بڑھاتا اور میٹابولزم(وہ نظام جو خوراک کو جسم کے اندر قابل استعمال چھوٹے اجزا میں تقسیم کرتا ہے)کو خراب کر کے زیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ چائے میں چینی کو بتدریج کم کریں ۔ سافٹ ڈرنکس، ڈبے کے جوس اور دیگرمیٹھے مشروبات سے پرہیز کریں۔
7) کھانے کے صحتمندا وقات اپنائیں اورا نہیں برقرار رکھیں: ہمارے ہاں کھانے کے روایتی انداز اور اوقات عموماً صحتمند نہیں۔زیادہ مقدار میں کھانا، بہت دیر سے رات کا کھانا اور غیر صحتمند کھانا صحت کو آہستہ آہستہ خراب کرتے ہیں اور ہمیں ان کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ صبح اٹھنے کے بعد 2 گھنٹے کے اندر ناشتہ کرلیں۔دوپہر کا کھانا دو بجے سے پہلے اور رات کا کھانا رات آٹھ بجے سے پہلے کھا لیں۔ روزانہ ایک ہی وقت پر کھانا نظام انہضام کو مضبوط کرتا ہے۔
8) ریستوران کے کھانے پرگھر کے پکائے ہوئے کھانے کو ترجیح دیں: بریانی،نہاری، اورچکن کڑاہی جیسے کھانے اکثر ریستورانوں میں ضرورت سے زیادہ تیل اور نمک کے ساتھ پکائے جاتے ہیں۔ نمک اور چکنائی کے علاوہ ان کھانوں کے ساتھ نان، روٹی یا چاول بھی ایسے ہوتے ہیں جو جسم میں شوگر کی مقدار بڑھاتے اور زیابیطس کا خطرہ بنتے ہیں۔ ریستوران کا کھاناکبھی کبھار کھائیں، اسے معمول نہ بنائیں۔
9) آہستہ کھائیں اور پیٹ بھرنے سے پہلے رک جائیں: کھانے پینے میں اعتدال رکھنا اور پیٹ کو اتنا بھرلینا کہ پھول ہی جائے، غیر صحتمند ہے اور اس کی ہر مذہب اور ثقافت میں حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔کھانے کی رفتار کا اس میں اہم کردار ہے۔ تیز ی سے کھانا کھاتے ہوئے ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کب پیٹ بھر بھی چکا اور ہم پھر بھی کھائے جا رہے ہیں۔ کھانا کھانے میں کم از کم 15-20 منٹ وقت لگنا چاہیے۔جب یہ خیال آئے کہ بھوک تقریباً پوری ہو گئی تو کھانا بند کر دیں۔یہ ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت کو روکتا ہے۔
10) دن بھر پانی پیئں: پانی ہماری زندگی اور ہمارے جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسے پورا کرنا ہائیڈریشن کو ٹھیک رکھتا ہے۔ اور جسم کی ہائیڈریشن کا خیال گرم و سرد دونوں موسموں میں رکھنا چاہیئے۔ چھ سے آٹھ گلاس روزانہ عام دنوں میں اور گرمیوں میں اس سے بھی زیادہ پانی پینا چاہیئے۔ پانی ، کھانا کھانے سے کافی پہلے پی لینا چاہیئے۔ کھانے کے دوران اور فوراً بعد پانی مضر صحت ہے ۔ میٹھے مشروبات مثلاً بوتلوں میں ملنے والے سافٹ ڈرنکس یا جوس پانی کی ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔ اسلئے انہیں پانی کی جگہ پر استعمال کرنا نقصان دہ ہے۔
اور آخری بات یہ کہ ایک صحت مند غذا کا مطلب روایتی کھانوں کو ترک کرنا نہیں بلکہ اس توازن کو بحال کرنا ہے جو پچھلی نسلوں کے پاس تھا — اعتدال پسند غذائیں، کافی مقدار میں دال اور سبزیاں کھانا ، چینی اور تیل کا کم استعمال ، اور کھانے کے اوقات میں باقاعدگی اس توازن کی بنیاد اور صحتمند زندگی کےلئے ضروری ہیں۔