اسہال(ڈائریا)

نمونیا اور غذائی کمی کے ساتھ اسہال کی بیماری 5 سال سے کم عمر بچوں میں موت کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ ہر سال تقریباً ساڑھے چار لاکھ بچے اس بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسہال کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں۔ ماضی میں، زیادہ تر لوگوں کے لیےپانی اور نمکیات کی کمی اسہال سے وابستہ موت کی وجہ بنتی تھی۔

بیماری کی تشخیص:

اسہال کے اسباب:

دن میں تین یا زیادہ مرتبہ پتلا پاخانہ کرنے کو اسہال کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسہال کی بیماری پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں موت کی تیسری بڑی وجہ ہے، حالاں کہ یہ قابل بچاو بھی ہے اور قابل علاج بھی۔ ہر برس 5 سال سے کم عمر کے ساڑھے چار لاکھ اور 5 سے 9 سال کی عمر کے تقریباً پچاس ہزار بچے ، اسہال کی بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پینے کے صاف پانی اور مناسب صفائی اور حفظان صحت کے ذریعے اس بیماری کی بڑی تعداد کو روکا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر، ہر سال تقریباً 1.7 بلین افراد (زیادہ تر بچے) اسہال کا شکار ہوتے ہیں ۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی قلت کی سب سے بڑی وجہ اسہال ہے۔ اب اس فہرست میں دیگر وجوہات جیسے کہ بیکٹیریا کی شدید انفیکشن بھی شامل ہیں۔ وہ بچے جو غذائیت کا شکار ہیں یا کمزور قوت مدافعت رکھتے ہیں، یا وہ افراد جو قوت مدافعت کمزور کرنے والی بیماریوں مثلاً ایچ آئی وی کا شکار ہیں، ان میں بھی اسہال جان لیوا ہو سکتے ہیں۔

اگر کسی کو دن میں تین یا اس سے زیادہ مرتبہ پتلا پاخانہ آئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اسے اسہال کی بیماری ہو گئی ہے۔ اگر معمول سے زیادہ مرتبہ بیت الخلا جانا پڑے لیکن پاخانہ پتلا نہ ہو تو اسے اسہال کی بیماری نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح وہ شیر خوار بچے جو ماں کا دودھ پیتے ہوں، ان کے ڈھیلے اور بار بار کئے پا خانے کو اسہال کی بیماری نہیں کہا جاتا۔ اسہال کی تین طبی اقسام ہیں: شدید پانی والا اسہال - کئی گھنٹوں یا دنوں تک رہتا ہے اور اس میں ہیضہ بھی شامل ہے۔ شدید خونی اسہال – جسے پیچش بھی کہا جاتا ہے۔ مستقل اسہال - 14 دن یا اس سے زیادہ رہتا ہے

اسہال  عام طور پر آنتوں میں انفیکشن کی  وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ انفیکشن مختلف قسم کے بیکٹیریا ، وائرس اور  دیگر جرثوموں (امیبا، جیارڈیا وغیرہ) کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔یہ جراثیم  عموماً آلودہ کھانے یا  آلودہ  پانی سے پھیلتے ہیں ،  اس کے علاوہ ذاتی صفائی سے لاپرواہی اور علاقے میں  ناقص حفظان صحت  کے انتظامات کے نتیجے میں  بھی یہ  جراثیم ایک شخص سے دوسرے شخص  تک پھیل سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے  گھرانوںمیں، 3 سال سے کم عمر کے بچے ہر سال تین مرتبہ  اسہال کا  شکار ہوتے ہیں۔ ہر مرتبہ  یہ بیماری ، بچے کو نشوونما کے لیے ضروری غذائیت سے  مزید محروم کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسہال غذائیت کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے، اور غذائی قلت کے شکار بچوں کے اسہال سے بیمار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

بچاو کے اقدامات:

اسہال کو روکنے کے لیے  مختلف کام کئے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے پینے کا  پانی محفوظ  ہونا چاہیئے،  اس کے ساتھ عمومی  صفائی ستھرائی کے طریق کار، خاص   طو  رپر صابن سے ہاتھ دھونا ، بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ چونکہ  اسہال سے بچاو کا انحصار  صرف ایک شخص   نہیں بلکہ پوری کمیونٹی پر ہوتا ہے ، اس وجہ سے بچاو کی تدابیر کے باوجود یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ ایسے میں اس  کا علاج  نمکول (ORS)  سے کیا جانا چاہیے۔ تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی یہ ہو۔  اس کے علاوہ، زنک  کی گولیوں کا  تقریباً دس دن تک استعمال اسہال کی مدت کو کم کرتا ہے اور نتائج کو بہتر بناتا ہے۔

روک تھام اور علاج:

گرمیوں اور برسات کے موسم میں اسہال کے عام ہونے یا وبائی شکل اختیار کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں اسہال  سے بچنے کے لیے   پینے کا ہپانی صاف اور محفوظ ہونا چاہیئے، اس کے علاوہ باتھ روم استعمال کرنے کے بعد اور کھانے کو ہاتھ لگانے سے پہلے  صابن اور پانی سے  ہاتھ دھونا،  گھرانے اور علاقے میں بہتر صفائی کو یقینی بنانا، چھوٹے بچوں کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا، اور روٹا وائرس کی ویکسین لگوانا شامل ہیں۔  غذائیت کی کمی ور اسہال  ایک  مہلک مجموعہ (   کامبی نیشن)  ہیں۔ اسہال بچوں میں غذائیت کی کمی  اور کمزوری پیدا کرتے ہیں اور کمزور بچوں میں اسہال بار بار ہوتے ہیں۔ بیماری کی اس مہلک  تال میل  کے اثرات سے بچا  جا سکتا ہے اگر اسہال کے ایک اٹیک کے دوران غذائیت سے بھرپور غذائیں ،  بشمول ماں کا دودھ   دینا جاری رکھا جائے۔  بیماری ہونے کی صورت میں اسہال کے علاج کے لیے مندرجہ ذیل باتیں اہم ہیں:  نمکول  (ORS) استعمال کرنا تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی نہ ہو۔ ORS صاف پانی، نمک اور چینی کا مرکب ہے۔چند روپوں میں اس کا پیکٹ مل جاتا ہے اور اس کے علاوہ گھر میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔  زنک سپلیمنٹس  کا استعمال، جو اسہال کی مدت میں 25 فیصد کمی اور پاخانہ کے حجم میں 30 فیصد کمی  کا باعث بنتے ہیں۔  پانی کی شدید  کمی کی صورت میں  ڈرپ کے ذریعے ری ہائیڈریشن۔ غذائیت سے بھرپور غذائیں جاری رکھنا۔  اپنے معالج سے مشورہ کرنا، خاص طور پر  اگر اسہال  دو ہفتے سے زیادہ ہو جائیں، یا پاخانے میں خون ہو یا پانی کی شدید  کمی کے آثار ہوں۔